Green Foundation Pakistan Facebook ad: “پاکستان میں زیتون کی کاشت”

Ran for 65 days, from February 21 to April 27, 2026, the last day Crush saw it.
Run by Green Foundation Pakistan on Facebook. Crush is not the advertiser and does not verify its claims. See this ad in Meta's Ad Library(opens in a new tab)
Want an ad like this for your product?
Crush makes new ad images for your product from this ad: your logo, your product photo, your offer.
Trials from $19.95 USD, then $79.95 USD a month. Cancel anytime.
About this ad
- Meta Ad Library ID
- 1284590540226819
- Platforms
- Relaunches
- 0
Ad text
🌿 پاکستان میں زیتون کی کاشت 🌿 🌱 زیتون کا باغ لگائیں 🌱 ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان میں ایک بار زیتون کا باغ #OliveGarden لگا لیا جائے تو یہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا۔ 🌍 زیتون کن علاقوں میں لگایا جا سکتا ہے؟ 🌍 زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں: 🌳 کشمیر 🌿 گلگت بلتستان 🌾 خیبرپختونخوا 🌵 سندھ 🌴 بلوچستان 🏜️ چولستان 🍃 جنگلی زیتون کی اہمیت 🍃 جن علاقوں میں جنگلی زیتون (جیسے کہو، سینزلہ، گونیر وغیرہ) پایا جاتا ہے، ان درختوں سے 8-10 فیصد خوردنی تیل نکالا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں تقریباً 9 کروڑ جنگلی زیتون کے درخت موجود ہیں جو قیمتی وسائل مہیا کر سکتے ہیں۔ اہم ہدایت: جنگلی زیتون کو کمرشل زیتون کے پودوں سے پیوند کاری کریں تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں اور پیداوار میں اضافہ ہو۔ 🌱 زیتون کی کاشت کی جگہوں کا تعین 🌱 زیتون کا درخت ہر قسم کی زمین میں کامیابی سے اگایا جا سکتا ہے، جیسے: 🏜️ ریتلی زمین 🌱 میرا زمین 🌾 پکی زمین 🏜️ صحرائی زمین 🪶 پتھریلی زمین پی ایچ کی مقدار زیتون کی کاشت کے لیے زمین کا پی ایچ 5.5 سے 8.5 کے درمیان ہونا چاہیے۔ نوٹ: سیم زدہ، کلر زدہ، شور زدہ زمینوں میں کاشت سے اجتناب کریں یا پہلے زمین کی اصلاح کریں۔ 💧 زیتون کو پانی کی ضرورت 💧 ابتداء میں زیتون کے پودے کو 10 دن کے وقفے سے پانی دینا ضروری ہے۔ موسم کے مطابق پانی کی مقدار کو کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ دو سال کے بعد، پانی دینے کا وقفہ بڑھا کر 20-25 دن کر دیا جائے۔ ڈرپ اریگیشن (قطرہ قطرہ آبپاشی) زیتون کے باغات میں ڈرپ اریگیشن سسٹم نہایت موزوں ہے: 💦 پانی کی بچت: اس نظام سے پانی کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے اور صرف جڑوں کو پانی فراہم ہوتا ہے۔ 🌿 یکساں پانی کی فراہمی: پودے کو ضرورت کے مطابق، مستقل اور یکساں مقدار میں پانی ملتا رہتا ہے۔ 📈 زرعی پیداوار میں اضافہ: مناسب آبپاشی سے پیداوار میں اضافہ اور درخت کی عمر میں بہتری آتی ہے۔ 💸 کم لاگت: خاص طور پر پانی کی کمی والے علاقوں میں یہ نظام سستا اور موثر ہے۔ 🌞 زیتون کے پودے کب لگائے جائیں؟ 🌞 زیتون کے پودے لگانے کے بہترین موسم: 🌸 بہار: فروری، مارچ، اپریل 🌧️ مون سون: اگست، ستمبر، اکتوبر 🌳 زیتون کا باغ لگانے کا طریقہ 🌳 پودوں کے درمیان 18×18 فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ ایک ایکڑ زمین میں تقریباً 130 پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ پودے باغ کی بیرونی حدود سے 8-10 فٹ کے فاصلے پر لگائیں۔ قطاروں کا رخ شمال سے جنوب رکھیں تاکہ سورج کی روشنی تمام پودوں تک پہنچ سکے۔ 🌱 پودے کیسے لگائیں؟ 🌱 1. گڑھا کھودیں گڑھے کی گہرائی اور چوڑائی 2 فٹ ہونی چاہیے۔ گڑھے کو پانی سے بھریں اور ایک ہفتہ کے لیے کھلا چھوڑ دیں۔ 2. گڑھا بھرائی کریں زرخیز مٹی اور بھل استعمال کریں۔ دیمک سے بچاؤ کے لیے گڑھے کو تین لئیرز میں بھریں اور ہر لئیر کے کناروں پر ایک ایک فینائل کی گولی رکھیں یا بائر جرمنی کی___ فپرونل ___دیمک کش زہر کا استعمال کریں۔ پھر ایک ہفتے کے لیے گڑھے کو دوبارہ چھوڑ دیں۔ 3. پودا لگائیں پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں یا شاپر کا نچلا حصہ کاٹ کر زمین میں دبائیں۔ پودے کے اردگرد مٹی کو پاؤں سے دبا کر مستحکم کریں۔ 4. تنے کے گرد مٹی لگائیں پودے کے تنے کے اردگرد مٹی اس طرح لگائیں کہ پانی براہ راست تنے کو نہ لگے۔ 5. سہارا دیں پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دیں۔ 🌸 پولینائزر اقسام کا استعمال لازمی ہے 🌸 پولینائزر اقسام کا استعمال پھولوں کی افزائش اور بہترین پھل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نوٹ: پولینائزر اقسام کے بغیر کاشت کرنے سے پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ 🌱 زیتون کے پودے پر پھل کب آتا ہے؟ زیتون کا پودا عام طور پر تین سال بعد پھل دینا شروع کرتا ہے۔ پہلے سبز پھل آتے ہیں جو اچار اور کھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، پھر وہی پھل پک کر جامنی یا کالے رنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن سے اعلیٰ معیار کا تیل نکالا جاتا ہے۔ 🌾 زیتون کی فی پودا اور فی ایکڑ پیداوار اگر زیتون کے پودے کی مناسب دیکھ بھال کی جائے — جیسے وقت پر پانی دینا، قدرتی یا نامیاتی کھاد دینا، اور ضرر رساں کیڑوں سے بچانا — تو ایک پودا سالانہ 60 کلوگرام یا اس سے زیادہ پھل دے سکتا ہے۔ اوسط دیکھ بھال سے 40 کلوگرام اور کم توجہ سے 25 سے 30 کلوگرام تک پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک ایکڑ میں130 پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ اگر ہر پودا اوسطاً 50 کلوگرام پھل دے تو ایک ایکڑ سے تقریباً 6500 کلوگرام زیتون حاصل ہوتا ہے۔ --- 🛢️ تیل کتنا نکلتا ہے؟ زیتون کے پھل میں تقریباً 20 سے 30 فیصد تیل پایا جاتا ہے۔ اس حساب سے اگر ایک ایکڑ سے 6500 کلوگرام زیتون حاصل ہو، تو اس سے تقریباً 1300 سے 1600 کلوگرام اعلیٰ معیار کا زیتون کا تیل حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا پھل بیچنے کے بجائے اس سے خود تیل نکلوائیں، کیونکہ زیتون کا تیل مقامی و بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے اور زیادہ منافع دیتا ہے۔ 🌟 زیتون کی کاشت کا عمومی فائدہ 🌟 زیتون کی کاشت پاکستان کی زمین کو مزید زرخیز بنا سکتی ہے، پانی کے استعمال میں کفایت فراہم کر سکتی ہے، اور معیشت میں بھی بہتری لا سکتی ہے۔ لہٰذا، زیتون کے باغات لگائیں اور پولینائزر اقسام کے ساتھ کاشت کو ترجیح دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے! ⚠️ اہم ہدایت ⚠️ ہمیشہ منظور شدہ نرسریوں سے سرٹیفائیڈ پودے خریدیں تاکہ جعل سازی سے بچا جا سکے اور آپ کو بہترین معیار کے پودے حاصل ہوں۔ 🌾 گندم کی کاشت کے علاقوں میں زیتون کے درخت 🌾 گندم کی کاشت کے علاقوں میں زیتون کے درخت سکول، کالج، مسجد، مدرسہ، اور شاہراہوں کے کناروں پر لگائیں تاکہ گندم کا زیر کاشت رقبہ متاثر نہ ہو اور زمین کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہو سکے۔ گرین فاؤنڈیشن پاکستان میاں احمد علی واٹس ایپ: 03008836857 --- 🌿 زیتون کی اقسام اور پاکستان میں ان کا انتخاب زیتون ایک بیش قیمت پھل ہے جو نہ صرف تیل کی پیداوار بلکہ غذائیت، دوائیوں اور معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں زیتون کی کاشت بڑھتی جا رہی ہے، اور اگر درست اقسام کا انتخاب کیا جائے تو یہ کاشت کسانوں کے لیے نفع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ 🧬 زیتون کی کاشت کے لیے اقسام کا انتخاب کیوں ضروری ہے؟ زیتون کی ہر قسم ایک مخصوص آب و ہوا، زمین کی ساخت اور پانی کی دستیابی کے مطابق مختلف انداز میں پھل دیتی ہے۔ ✅ اگر ہم صحیح قسم منتخب کریں گے تو: زیادہ پیداوار حاصل ہوگی بہتر معیار کا تیل ملے گا درخت کم بیمار ہوں گے نمکین پانی یا خشک زمین میں بھی کامیاب کاشت ممکن ہوگی 🌍 پاکستان میں منظور شدہ زیتون کی اقسام (ملک + اردو نام) 1. 🇮🇹 Ascolana – اٹلی – کھانے کے لیے بہترین 🍽 2. 🇵🇰 Bari Zaitoon 1 (Carotina) – پاکستان – تبدیل شدہ قسم 🌿 3. 🇵🇰 Bari Zaitoon 2 (Frantoio) – پاکستان – تبدیل شدہ قسم 🌱 4. 🇬🇷 Koroneiki – یونان – اعلیٰ معیار کا تیل 🫒 5. 🇹🇷 Gemlik – ترکی – کالے زیتون کے لیے مشہور 🖤 6. 🇱🇾 Hamdi – لیبیا – سخت زمین میں بھی اگتا ہے 7. 🇪🇸 Hojiblanca – اسپین – تیل و کھانے دونوں کے لیے 8. 🇪🇸 Picual – اسپین – نمکین زمین میں بھی کامیاب 9. 🇪🇸 Arbequina – اسپین – چھوٹے درخت، کم پانی میں بھی مفید 10. 🇪🇸 Arbosana – اسپین – خود بارور، درمیانی پیداوار 11. 🇪🇸 Manzanilla – اسپین – کھانے کے لیے عمدہ 12. 🇫🇷 Picholine – فرانس – ذائقے دار کھانے والا زیتون 13. 🇹🇳 Chemlali – تیونس – تیل کے لیے استعمال 14. 🇮🇹 Cheietina – اٹلی – خود بارور قسم 15. 🇹🇷 Erlik – ترکی – مزاحم قسم 16. 🇮🇹 Ottobratica – اٹلی – سرد علاقوں میں گردہ افشانی 17. 🇩🇿 Jerboui – الجزائر – سخت زمین میں اگنے والی 18. 🇮🇹 Pendolino – اٹلی – پولینائزر کے طور پر استعمال 🌸 🏞 پاکستان کے مختلف علاقوں کے لیے موزوں اقسام 🌲 خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات Arbequina Arbosana Ascolana Bari Zaitoon 1 Bari Zaitoon 2 Frantoio Koroneiki Leccino Pendolino Kalamata Chateau Gemlik Moraiolo 🏔 سوات اور ملحقہ سرد علاقے Arbequina Koroneiki Coratina Arizona Frantoio 🧂 نمکین پانی والی زمینیں Picual Koroneiki (پولینائزر: Arbosana) Arbequina 🌾 پنجاب Arbequina Arbosana Bari Zaitoon 1 Koroneiki Manzanilla Ottobratica Picual 🌞 جنوبی پنجاب Arbequina Picual Kalamata Koroneiki Coratina (پولینائزر: Frantoio / Leccino / Ottobratica) Gemlik Manzanilla Hojiblanca Arbosana 🏔 پوٹھوہار ریجن Arbequina Ascolana Gemlik Hamdi 🔥 سندھ Koroneiki Arbequina Arbosana Coratina 🏜 تھر، چولستان Arbequina Picual Koroneiki ⛰ بلوچستان Frantoio Arbequina Arbosana Koroneiki Leccino Hamdi Hojiblanca Ottobratica Coratina Jerboui --- 📚 اہم عوامل جو اقسام کے انتخاب میں مدد دیتے ہیں 1️⃣ موسمی حالات زیتون کو سردیوں میں کم از کم 200–300 گھنٹے کی ٹھنڈ درکار ہوتی ہے۔ یہ ان علاقوں میں کامیاب ہے جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 35–40°C تک جاتا ہے۔ 2️⃣ مٹی کی قسم ریتلی، پتھریلی اور نیم زرخیز زمین زیتون کے لیے بہترین ہوتی ہے۔ 3️⃣ پانی کی دستیابی کم پانی اور نمکین پانی والی زمینوں کے لیے مخصوص اقسام جیسے Picual اور Koroneiki مفید ہیں۔ 4️⃣ پولینیشن (گردہ افشانی) کچھ اقسام خود بارور ہوتی ہیں، لیکن کچھ کو پولینائزر درکار ہوتا ہے جیسے Pendolino یا Ottobratica۔ 5️⃣ جدید زراعت ڈِرِپ ایریگیشن، کھاد کی درست مقدار، اور جدید تراش خراش زیتون کے باغات کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زیتون کی کاشت ایک بہترین متبادل زرعی آپشن ہے، خاص طور پر ان زمینوں کے لیے جو غیر زرخیز سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن کاشت سے پہلے: علاقائی تحقیق کی جائے موزوں اقسام کا انتخاب کیا جائے مقامی ماہرینِ زراعت سے مشورہ لیا جائے مکس اقسام کی کاشت کو اپنایا جائے تاکہ گردہ افشانی، پیداوار اور معیار میں اضافہ ہو زیتون نہ صرف معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ ملک کی زراعت کو پائیدار ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے ۔ مرتب کردہ گرین فاونڈیشن پاکستان میاں احمد علی 03008836857 ____________________&&&&&&& زیتون کے درخت نہ صرف کم پانی اور خشک موسم میں زندہ رہ سکتے ہیں، بلکہ وہ مختلف اقسام کی مٹی میں بھی پھل دے سکتے ہیں۔ لیکن اعلیٰ پیداوار اور درختوں کی تندرستی کے لیے مٹی کا پی ایچ متوازن ہونا ضروری ہے۔ اس توازن کو برقرار رکھنے یا درست کرنے کے لیے ہم چونا (Lime) یا سلفر (Sulfur) کا استعمال کرتے ہیں، اور غذائی کمی پوری کرنے کے لیے غیر نامیاتی کھاد دی جاتی ہے۔ 📏 مٹی کی پی ایچ (pH) کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟ پی ایچ مٹی کی تیزابی یا الکلائن (کھارے پن) کی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ 5.5 سے کم پی ایچ ہو تو مٹی تیزابی (Acidic) ہوتی ہے 7.5 سے زیادہ پی ایچ ہو تو مٹی الکلائن (کھاری) ہوتی ہے 6.5 کے آس پاس پی ایچ بہترین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں غذائی اجزاء زیادہ مؤثر جذب ہوتے ہیں 🧂 پی ایچ بڑھانے کے لیے: چونا (Agricultural Lime) کا استعمال جب مٹی کا پی ایچ بہت کم ہو یعنی مٹی تیزابی ہو (pH 5.5 سے کم)، تو اسے درست کرنے کے لیے چونا (کیلشیم کاربونیٹ / CaCO₃) استعمال کیا جاتا ہے۔ ✅ مقدار: اگر مٹی کا پی ایچ 5.0–5.5 ہو، تو فی ایکڑ 3–4 بوری (150–200 کلوگرام) تک چونا ڈالنا مناسب ہوتا ہے اگر پی ایچ 4.5–5.0 ہو، تو مقدار 250–300 کلوگرام فی ایکڑ ہو سکتی ہے 🌧️ بارانی علاقوں میں چونا سطحی مٹی میں مکس کریں 💦 آبپاش علاقوں میں چونا گہرائی میں شامل کرنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے ⏱️ وقت: چونا زمینداری سیزن سے 2–3 ماہ پہلے ڈالیں تاکہ مٹی کا پی ایچ وقت پر درست ہو جائے 🔁 دھیان رکھیں: چونے کے اثرات آہستہ ظاہر ہوتے ہیں (3–6 ماہ) پی ایچ کی بہتری کا مشاہدہ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً مٹی کا تجزیہ کریں 🔻 پی ایچ کم کرنے کے لیے: سلفر (Sulfur) کا استعمال جب مٹی کا پی ایچ زیادہ ہو یعنی مٹی الکلائن (pH 8 یا زیادہ) ہو، تو اسے کم کرنے کے لیے سلفر (عنصری سلفر – Elemental Sulfur) استعمال کیا جاتا ہے۔ ✅ مقدار: اگر پی ایچ 8.0–8.5 ہو، تو فی ایکڑ 30–50 کلوگرام سلفر ڈالنا کافی ہوتا ہے اگر پی ایچ 9.0 یا اس سے زیادہ ہو، تو مقدار 70–100 کلوگرام فی ایکڑ ہو سکتی ہے 💧 استعمال کا طریقہ: سلفر کو پانی دے کر مٹی میں اچھی طرح مکس کریں تاکہ عمل تیز ہو نامیاتی مادہ (compost) کے ساتھ استعمال کرنے سے اثر مزید بہتر ہوتا ہے ⏱️ وقت: سلفر موسمِ بہار یا خزاں میں استعمال کریں استعمال کے بعد 1–2 ماہ تک مٹی نم رکھیں تاکہ پی ایچ میں تبدیلی آئے 🧪 مٹی کا تجزیہ کیوں ضروری ہے؟ 🧬 چونا یا سلفر ڈالنے سے پہلے مٹی کی پی ایچ، ساخت، نامیاتی مادہ اور نمکیات کو جاننا ضروری ہے۔ بغیر تجزیے کے اندھا دھند مقدار ڈالنے سے: 🚫 مٹی کی ساخت خراب ہو سکتی ہے 🚫 غذائی اجزاء بلاک ہو سکتے ہیں 🚫 درخت کمزور اور پیداوار متاثر ہو سکتی ہے 🌾 غیر نامیاتی کھاد کا درست استعمال غیر نامیاتی (مصنوعی) کھاد زیتون کے درختوں کو فوری اور متوازن غذائیت فراہم کرتی ہے، لیکن اسے درخت کی عمر، موسم، اور مٹی کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کریں: 🔹 بنیادی اجزاء: نائٹروجن (N): درخت کی بڑھوتری فاسفورس (P): جڑوں کی مضبوطی پوٹاشیم (K): پھل کی کوالٹی، ذائقہ، رنگ 📅 کھاد ڈالنے کا وقت: مارچ-اپریل: بڑھوتری کے آغاز پر اگست-ستمبر: پھل پکنے کے وقت 📋 خلاصہ: عنصر مقصد مقدار (فی ایکڑ) وقت چونا پی ایچ بڑھانا 150–300 کلوگرام سردیوں کے اختتام پر سلفر پی ایچ کم کرنا 30–100 کلوگرام بہار یا خزاں NPK کھاد غذائیت دینا حسبِ تجزیہ سال میں 2 بار 🎯 کسانوں کے لیے رہنمائی: 🧠 علم کے ساتھ فیصلہ کریں 🔬 مٹی کا ٹیسٹ کروائیں 🧪 کھاد اور پی ایچ ایڈجسٹرز کا درست مقدار میں استعمال کریں 👨🌾 ماہرینِ زراعت سے مشورہ لیں 📈 زیتون کے درخت کو مکمل غذائیت دیں تاکہ زیادہ اور معیاری پیداوار حاصل ہو زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟ Green Foundation Pakistan > 🌳 زیتون کے باغبانوں کے لیے مکمل کھاد گائیڈ : موسم، مقدار اور طریقہ استعمال 🧪💧🌱 🍃 زیتون کے درختوں کے لیے NPK کھاد: فوائد، مقدار، استعمال کا شیڈیول اور طریقہ مرتب کردہ: گرین فاؤنڈیشن پاکستان تحریر: میاں احمد علی 📦 NPK کھاد کیا ہے؟ NPK کھاد ایک مکمل متوازن کھاد ہے جس میں تین بنیادی غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جو پودے کی صحت مند نشوونما کے لیے ضروری ہیں: N – نائٹروجن (Nitrogen): پتیوں کی ہریالی، شاخوں کی نشوونما اور سبزہ بڑھانے کے لیے P – فاسفورس (Phosphorus): جڑوں کی مضبوطی اور پھول و پھل کی افزائش کے لیے K – پوٹاشیم (Potassium): پھل کی کوالٹی، پودے کی قوت مدافعت اور پانی جذب کرنے کی صلاحیت کے لیے 🔸 یہ کھاد مختلف تناسب میں دستیاب ہے جیسے: 15-15-15 (متوازن نشوونما کے لیے) 20-10-10 (ابتدائی مراحل میں پتیوں اور شاخوں کے لیے) 10-20-20 (پھول، پھل اور تیل کے لیے مؤثر) 🧪 NPK کھاد کے فوائد ✅ زیتون کے درخت کی مجموعی صحت میں بہتری ✅ پتوں کی ہریالی اور تازگی ✅ جڑوں کی گہرائی اور مضبوطی ✅ پھولوں اور پھلوں کی تعداد میں اضافہ ✅ زیتون کے تیل کا تناسب اور معیار بڑھتا ہے ✅ درخت موسمی شدت اور بیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوتا ہے 🌱 نابالغ زیتون کے درختوں (1–4 سال) کے لیے NPK کھاد 💧 مقدار: 🔹 فی پودا 250–500 گرام (15-15-15 یا 20-10-10) 🗓️ شیڈیول: 1. مارچ: نئی کونپلوں کے آغاز سے پہلے 2. جون/جولائی: گرمی میں نشوونما جاری رکھنے کے لیے 3. اکتوبر: سردیوں کی تیاری اور مدافعت کے لیے ✅ طریقہ استعمال: تنے سے 6–12 انچ فاصلے پر دائرہ بنائیں مٹی میں ہلکی گوڈی کرکے کھاد ڈالیں فوری پانی دیں تاکہ کھاد اچھی طرح جذب ہو 🌳 بالغ زیتون کے درختوں (4 سال سے زائد) کے لیے NPK کھاد 💧 مقدار: 🔹 فی درخت 600–1000 گرام (15-15-15 یا 10-20-20) 🗓️ شیڈیول: 1. فروری/مارچ: پھول آنے سے پہلے درخت کو توانائی دینے کے لیے 2. مئی/جون: پھل کی بہتر نشوونما اور سائز کے لیے 3. اگست/ستمبر: اگلی فصل کے لیے قوت و توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے 🔸 نوٹ: کھاد کا استعمال تیس ستمبر تک مکمل کر لیا جائے ✅ طریقہ استعمال: درخت کے گرد 1–2 فٹ کے دائرے میں کھاد ڈالیں گوڈی کے بعد پانی دینا لازمی ہے تاکہ کھاد جذب ہو ⚠️ احتیاطی تدابیر 🔬 مٹی کا تجزیہ کروا کر مناسب فارمولا منتخب کریں 🌱 نابالغ درختوں کو زیادہ کھاد دینے سے گریز کریں 🚱 کھاد خشک زمین میں نہ ڈالیں، ہمیشہ سیراب زمین ہو ❌ کھاد کو براہِ راست تنے پر نہ ڈالیں ☀️ کھاد کو ٹھنڈی، خشک اور سایہ دار جگہ پر محفوظ رکھیں ✅ نتیجہ NPK کھاد زیتون کے درختوں کے لیے ایک لازمی جزو ہے جو نہ صرف پودے کی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ پیداوار اور زیتون کے تیل کے معیار میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ صحیح وقت، مناسب مقدار اور درست طریقہ استعمال سے یہ کھاد زیتون کے باغات کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ 🌿 گرین فاؤنڈیشن پاکستان — سرسبز پاکستان، روشن کل کی ضمانت _____&& 🍃 زیتون کے درختوں کے لیے SOP کھاد : فوائد، مقدار اور شیڈیول مرتب کردہ: گرین فاؤنڈیشن پاکستان تحریر: میاں احمد علی 🧾 SOP کھاد کیا ہے؟ SOP یعنی سلفیٹ آف پوٹاش (Sulfate of Potash) ایک اعلیٰ معیار کی پوٹاشیم کھاد ہے، جس میں: 🔹 50% پوٹاشیم (K₂O) 🔹 18% سلفر (S) یہ کلورین سے پاک کھاد ہے، اس لیے یہ ان پودوں کے لیے بہت موزوں ہے جو کلورین کے لیے حساس ہوں — جیسے زیتون 🌿۔ 🧪 SOP کھاد کے نمایاں فوائد 1. ✅ پھل کی کوالٹی بہتر بناتی ہے (سائز، ذائقہ اور رنگ) 2. ✅ زیتون کے تیل کی مقدار اور معیار بڑھاتی ہے 3. ✅ پتے اور شاخیں مضبوط کرتی ہے 4. ✅ پھول گرنے سے بچاتی ہے 5. ✅ نمکیاتی زمینوں میں بھی محفوظ طریقے سے استعمال ہو سکتی ہے 6. ✅ سردی اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتی ہے 7. ✅ کلورین فری — کلورین-sensitive فصلوں کے لیے محفوظ ترین انتخاب 🌱 نابالغ زیتون کے درختوں (1 سے 4 سال) کے لیے SOP کھاد مقدار: 🔸 فی پودا 100–200 گرام SOP، زمین کی زرخیزی اور موسم کے مطابق۔ شیڈیول (استعمال کے اوقات): 1. مارچ/اپریل – نئی کونپلوں سے قبل 2. جون/جولائی – گرمی برداشت اور پتوں کی مضبوطی کے لیے 3. ستمبر/اکتوبر – سردیوں سے پہلے جڑوں کو طاقت دینے کے لیے طریقہ استعمال: کھاد کو تنے سے 6–12 انچ دور مٹی میں ہلکی گوڈی کر کے ڈالیں بعد میں اچھی طرح پانی دیں تاکہ کھاد زمین میں اچھی طرح جذب ہو جائے 🌳 بالغ زیتون کے درختوں (4 سال سے زائد عمر) کے لیے SOP کھاد مقدار: 🔸 فی درخت 400–600 گرام SOP (مٹی کی حالت کے مطابق) شیڈیول: 1. فروری/مارچ – شگوفوں اور پھولوں کی تیاری کے لیے 2. مئی/جون – پھل کی بڑھوتری اور معیار کے لیے 3. اکتوبر – درخت کو اگلی فصل کے لیے توانائی دینے کے لیے طریقہ استعمال: درخت کے گرد حلقہ نما گوڈی کریں اور کھاد ڈال کر پانی دیں ⚠️ احتیاطی تدابیر 📊 مٹی کا تجزیہ ضرور کروائیں تاکہ صحیح مقدار کا تعین ہو 🚱 خشک زمین میں SOP نہ ڈالیں، ہمیشہ پانی کے ساتھ استعمال کریں ⚖️ دیگر کھادوں (NPK، بورون، زنک وغیرہ) سے موزونیت کا خیال رکھیں 🌥️ کھاد کو ٹھنڈی اور خشک جگہ پر محفوظ کریں ✅ نتیجہ: SOP کھاد زیتون کے درختوں کے لیے بہترین، محفوظ، اور مؤثر انتخاب ہے۔ یہ درخت کی مضبوطی، پھل کی کوالٹی، اور تیل کے معیار کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا درست وقت پر اور مناسب مقدار میں استعمال نہ صرف درخت کی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ فصل کی مجموعی پیداوار میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ 🌿 گرین فاؤنڈیشن پاکستان _______ 🍃 زیتون کے درختوں کے لیے SOP اور NPK کے علاوہ مفید کھادیں مرتب کردہ: گرین فاؤنڈیشن پاکستان تحریر: میاں احمد علی تعارف زیتون کے درختوں کی صحت مند نشوونما، بھرپور پھل اور اعلیٰ معیار کے تیل کے حصول کے لیے صرف SOP (سلفیٹ آف پوٹاش) اور NPK کھادیں کافی نہیں ہوتیں۔ درختوں کو مکمل غذائیت فراہم کرنے کے لیے مائیکرو اور میکرو نیوٹرینٹس، آرگینک کھادیں اور قدرتی اصلاحی مواد بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زنک (Zinc – Zn) زنک زیتون کے درختوں کی نئی کونپلوں، شاخوں، اور پتوں کی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی سے پتے چھوٹے، زرد اور جھری دار ہو جاتے ہیں۔ زنک پھولوں کو جھڑنے سے بچاتا ہے اور درخت کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ زنک کو مارچ اور جون میں اسپرے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بوران (Boron – B) بوران زیتون کے درخت میں پھولوں کی تشکیل، پھل کی گرفت (fruit set) اور تیل کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے پھل کم بنتے ہیں یا گری پڑی ہو جاتی ہے۔ بوران کا استعمال مارچ یا اگست میں ہلکے محلول کے طور پر پتے پر اسپرے کی صورت میں بہترین ہوتا ہے۔ مگنیشیم (Magnesium – Mg) مگنیشیم پتے کی سبز رنگت (کلوروفل) بنانے میں مدد دیتا ہے، جس سے پودا سورج کی روشنی جذب کر کے خوراک تیار کرتا ہے۔ اگر پتے درمیان سے زرد ہونے لگیں تو یہ مگنیشیم کی کمی کی علامت ہے۔ مگنیشیم سلفیٹ کو یا تو اسپرے کے طور پر یا مٹی میں شامل کر کے دیا جا سکتا ہے۔ کیلشیم (Calcium – Ca) کیلشیم درخت کے خلیات کی مضبوطی، پھل کی شیلف لائف اور درخت کی جڑوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے استعمال سے درخت موسمی شدت (گرمی، سردی) اور بیماریوں کا بہتر مقابلہ کر سکتا ہے۔ کیلشیم نائٹریٹ بہترین ذریعہ ہے جو فروری، مارچ یا اگست میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آئرن (Iron – Fe) آئرن کی کمی سے پتے پیلے پڑ جاتے ہیں لیکن رگیں سبز رہتی ہیں، جسے chlorosis کہتے ہیں۔ آئرن کلوروفل بنانے میں اہم ہے اور روشنی کو خوراک میں تبدیل کرنے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے لیے چیلیٹڈ آئرن یا آئرن سلفیٹ کا اسپرے مفید ہے، خاص طور پر گرمیوں میں۔ گوبر کی کھاد (Farmyard Manure – FYM) یہ ایک قدرتی اور نامیاتی کھاد ہے جو زمین کی زرخیزی، ساخت اور نمی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ کھاد سست رفتاری سے غذائیت چھوڑتی ہے، جس سے درخت کو مسلسل توانائی ملتی ہے۔ اسے عام طور پر اکتوبر یا نومبر میں استعمال کیا جاتا ہے، 20 سے 30 کلوگرام فی درخت۔ 🔰 نامیاتی کھاد کیا ہے؟ نامیاتی کھاد وہ قدرتی خوراک ہے جو جانوروں کے فضلے، پودوں کی باقیات، خمیر (Yeast) اور مائیکرو آرگینزمز سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ کھاد زمین کی زرخیزی بڑھاتی ہے، فصلوں کی صحت بہتر کرتی ہے اور مصنوعی کھادوں کے مضر اثرات سے پاک ہوتی ہے۔ --- 🧾 ضروری اجزاء: 🐄 گائے/بھینس کا گوبر 🐪 اونٹ کا گوبر 🐎 گدھے یا گھوڑے کی لید 🐐 بکری یا بھیڑ کی میگھیاں 🥬 پرانی سبزیاں یا ان کے چھلکے 🍌 پرانے پھل یا ان کے چھلکے 🍂 سوکھے پتے اور فصلوں کی باقیات 🍯 چینی/شیرا/پرانا گڑ 💧 پانی 🧫 ییسٹ (خمیر) — قریبی بیکری، میڈیکل یا سپر اسٹور سے دستیاب 🧪 خمیر کی افادیت: ییسٹ (خمیر) میں دو اہم مائیکرو آرگینزمز ہوتے ہیں: 1. لیکٹو بیسیلس (Lactobacillus): ایک فائدہ مند بیکٹیریا جو نامیاتی مادوں کو گلانے میں مدد دیتا ہے۔ 2. سکیرومائیسز (Saccharomyces): ایک فنگس جو نشاستہ دار اجزاء میں خمیر کا عمل شروع کرتی ہے۔ یہ دونوں اجزاء مل کر مادے کو توڑتے ہیں، بدبو کو ختم کرتے ہیں اور کھاد میں مفید غذائی اجزاء پیدا کرتے ہیں۔ 🧰 نامیاتی کھاد بنانے کا طریقہ: مرحلہ 1️⃣: خمیر (ییسٹ) تیار کریں ایک بالٹی پانی میں: 1 کپ چینی / پرانا گڑ / شیرا شامل کریں 2 چمچ ییسٹ (خمیر) شامل کریں اچھی طرح مکس کریں اور 3-5 دن کے لیے کسی سایہ دار جگہ پر رکھ دیں مرحلہ 2️⃣: کھاد کا بنیادی مرکب بنائیں ایک ڈرم (200 لیٹر): آدھا بھریں گوبر، میگھیاں، پتے، سبزیاں، پھل وغیرہ سے آدھا پانی شامل کریں اوپر سے تیار شدہ ییسٹ والا مائع شامل کریں اچھی طرح ہلائیں اور ڈرم کا منہ ڈھانپ دیں (کپڑا یا ڈھکن) مرحلہ 3️⃣: عمل گلنے کا اسے 10-15 دن تک پڑا رہنے دیں دن میں ایک بار ہلکا سا ہلا دیں تاکہ عمل تیز ہو جب بدبو ختم ہو جائے اور مادہ اچھی طرح گل سڑ جائے تو کھاد تیار ہے ✅ کھاد استعمال کا طریقہ: کھاد کو پانی کے ساتھ مکس کر کے پودوں کی جڑوں میں ڈالیں زیتون، سبزیاں، پھلدار درخت، گندم، مکئی وغیرہ پر استعمال کریں ہر 15 دن بعد استعمال کیا جا سکتا ہے 🌱 نامیاتی کھاد کے فائدے: ✅ زمین کی قدرتی زرخیزی میں اضافہ ✅ پودوں کی نشوونما میں تیزی ✅ کیڑے اور بیماریوں کا قدرتی مقابلہ ✅ پانی کی جذب ہونے کی صلاحیت بہتر ✅ زمین نرم اور قابل کاشت بنتی ہے ✅ مصنوعی کھادوں سے نجات، ماحول دوست حل 📌 اہم مشورے: ہمیشہ کھاد تیار کرنے کے دوران سایہ دار جگہ منتخب کریں کھاد میں پلاسٹک، شیشہ یا گوشت نہ ڈالیں دھوپ میں نہ رکھیں تاکہ مفید جرثومے محفوظ رہیں بہتر نتائج کے لیے ہر موسم میں کم از کم 2 بار استعمال کریں 🌿 نتیجہ: نامیاتی کھاد ایک سستا، مؤثر، ماحول دوست اور زمینی طور پر مفید متبادل ہے جو زیتون اور دیگر فصلوں کی جڑوں سے لے کر پھلوں تک فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہ کھاد صرف زمین ہی نہیں بلکہ پورے زرعی نظام کو صحت مند بناتی ہے۔ کمپوسٹ یا ورمیکمپوسٹ کمپوسٹ زمین میں مائیکروبس، عضویات اور قدرتی توانائی کو بڑھاتا ہے۔ ورمیکمپوسٹ (کیچوؤں کی کھاد) خاص طور پر زیتون کے درختوں کی جڑوں کی صحت اور پھل کی کوالٹی میں بہتری لاتا ہے۔ اسے سال میں دو بار استعمال کرنا مفید ہے، خاص طور پر موسم بہار اور خزاں میں۔ استعمال کا وقت اور ترتیب ان تمام کھادوں کا درست وقت پر استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ عام طور پر فروری اور مارچ کا وقت درخت کو پھول دینے کے لیے تیار کرنے کا ہوتا ہے، جون اور جولائی گرمی برداشت اور پھل کی بڑھوتری کا وقت ہے، جبکہ اگست اور ستمبر اگلی فصل کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ اکتوبر اور نومبر میں زمین کی تیاری اور مٹی کی زرخیزی پر کام کیا جاتا ہے۔ احتیاطی تدابیر ہمیشہ مٹی کا تجزیہ کروائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس کھاد کی کتنی ضرورت ہے۔ کھاد کو کبھی بھی خشک زمین میں نہ ڈالیں، بلکہ ہمیشہ پانی دینے کے بعد یا کھاد دینے کے فوراً بعد آبپاشی کریں۔ کیمیائی اور نامیاتی کھادوں کا متوازن استعمال درخت کو مکمل غذائیت دیتا ہے اور پیداوار کو بڑھاتا ہے۔ نتیجہ SOP اور NPK کے ساتھ ساتھ زنک، بوران، مگنیشیم، کیلشیم، آئرن، گوبر کی کھاد اور کمپوسٹ کا متوازن اور بروقت استعمال زیتون کے درختوں کی صحت اور پیداوار کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ کھادیں نہ صرف پھل اور تیل کے معیار کو بہتر بناتی ہیں بلکہ درخت کو موسمی تبدیلیوں، بیماریوں اور کمزور مٹی کے اثرات سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ 🌿 اہم ہدایات 15 فروری سے پہلے اور 30 ستمبر کے بعد کھاد بلکل مت ڈالیں کسی بھی قسم کی کھاد کو درخت کے تنے کو نہ لگنے دیں کیونکہ نائٹروجن کی زیادہ مقدار جلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ کھاد ہمیشہ بالغ پودوں کے تنے سے ڈیڑھ فٹ ہٹا کر گوڈی کر کے مٹی میں دبا کر پانی لگائیں زیادہ اثر کرے گی اپنے زیتون کے درخت کو تھوڑی مقدار میں کھاد مہینے میں کئی بار کھلائیں اور لگانےکے بعد اچھی طرح پانی دیں۔۔۔۔۔ 🌿 زیتون کے مرجھائے درختوں کی بحالی کے قدرتی نسخے زیتون کے درخت اگر بیماری، پانی کی کمی یا مٹی کی کمزوری کی وجہ سے کمزور ہو جائیں تو مصنوعی کھاد کم اثر کرتی ہے۔ ایسے حالات میں قدرتی اجزاء مؤثر ثابت ہوتے ہیں: 1️⃣ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ (Hydrogen Peroxide) 🔧 ترکیب: 1 حصہ 3% ہائیڈروجن پر آکسائیڈ 10 حصے پانی 📅 ماہانہ ایک بار درخت کے جڑوں کے قریب ڈالیں۔ ✅ فوائد: مٹی میں آکسیجن بڑھاتی ہے جڑوں کی فنگس ختم کرتی ہے مردہ پودے دوبارہ تازہ ہو سکتے ہیں ⚠️ احتیاط: زیادہ مقدار یا بار بار استعمال نہ کریں۔ 2️⃣ ایپسم سالٹ (Epsom Salt) میگنیشیم اور سلفر سے بھرپور، جو پودوں کی نشوونما اور پتوں کی سبزت کو بہتر بناتا ہے۔ 🔧 ترکیب: 1 لیٹر پانی میں 1 چمچ ایپسم سالٹ فی درخت: 2–4 چمچ مٹی میں ملائیں 📆 سال میں 3–4 بار کیمیائی پتوں کےتجزیہ کے بعد کم از کم قابل قبول غذائیت کی شرحیں N کے لیے 1,0,5% ہیں۔ نائٹروجن سب سے اہم غذائی عنصر ہے جب ہم زیتون کے تیل یا میز زیتون کے لیے زیتون کا درخت اگاتے ہیں۔ زیتون کے انکرن اور پیداوار کے لیے نائٹروجن ضروری ہے۔ نائٹروجن کی کمی کی اہم علامت سالانہ پودوں کی لمبائی میں چھوٹا ہونا ہے۔ پتے معمول سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ عام پتوں کی طرح گہرے سبز نہیں ہوتے۔ جب ہم نائٹروجن کی کمی کی تشخیص کرتے ہیں، تو ہمیں ایک منطقی فرٹیلائزیشن پروگرام بنانے کے لیے مقامی زرعی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ زیتون کے درختوں کی کھاد ڈالنے کی ایک عام اسکیم جو سیکڑوں تجربہ کار زیتون کاشتکار استعمال کرتے ہیں اس میں 8-15 پونڈ شامل کرنا شامل ہے۔ (4-7 کلوگرام) N-P-K 11-15-15 کھاد ہر بالغ درخت میں سال میں ایک یا دو بار ڈالیں۔ غیر آبپاشی والے درختوں میں موسم خزاں اور سردیوں کا سب سے موزوں وقت ہے۔ ہم زمین میں کھاد کو تنے سے 2-3 فٹ (60-90 سینٹی میٹر) کے رداس میں ڈال سکتے ہیں، تاکہ ایک جگہ کے مقابلے دوسرے جگہ پر غذائی اجزاء کی ضرورت سے زیادہ ارتکاز سے بچا جا سکے۔ تاہم، یہ صرف کچھ عام طرز عمل ہیں اور اپنی تحقیق کیے بغیر ان پر عمل نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر شعبہ مختلف ہے اور مختلف ضروریات ہیں۔ سال میں کم از کم ایک بار اپنی مٹی کی جانچ کرنا فائدہ مند ہے، اور ماہر سے مشورہ کرنے کے بعد اصلاحی اقدامات کریں۔ سڑنے کے مختلف مراحل میں نامیاتی مادہ (خاص طور پر humus) کئی طریقوں سے فائدہ مند ہے۔ یہ مٹی کے حالات کو بہتر بناتا ہے، جیسے ہلکی مٹی میں مستقل مزاجی۔ یہ بھاری مٹی کی ساخت کو بھی بہتر بناتا ہے، پی ایچ ایڈجسٹمنٹ کے طور پر کام کرتا ہے، مٹی کی نمی کو برقرار رکھتا ہے، مٹی کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، مٹی کے مائکروجنزموں کو متحرک کرتا ہے اور غذائی اجزاء کے جذب کو بڑھاتا ہے۔ نتیجتاً، نامیاتی کھادیں اکثر زیتون کی فرٹیلائزیشن کے معقول پروگرام کی بنیاد ہوتی ہیں۔ موسم خزاں کے دوران، کھاد کا گارا فراہم کیا جا سکتا ہے اور اسے مٹی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ زیتون کے کھیتوں میں جہاں آبپاشی نہیں ہوتی اور بار بار بارش نہیں ہوتی، بہت سے کسان ہر دو سال بعد 10-20 ٹن کھاد فی ہیکٹر فراہم کرتے ہیں۔ اچھی طرح سے آبپاشی والے علاقوں میں، یہ اصلاحی عمل اکثر ہر 3-4 سال بعد کیا جاتا ہے۔ ایک بار پھر، یہ صرف عام طریقے ہیں اور ہر کسان کو فرٹیلائزیشن کے طریقوں کو لاگو کرنے سے پہلے اپنی تحقیق اور مٹی کی جانچ یا ٹشو کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ ذہن میں رکھیں کہ 1 ٹن = 1000 کلوگرام = 2.200 پونڈ۔ اور 1 ہیکٹر = 2,47 ایکڑ = 10.000 مربع میٹر۔ کیلشیم کی کافی مقدار صحت مند زیتون کے درخت کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ کیلشیم بیماریوں کے لیے حساسیت کو کم کرتا ہے۔ کیلشیم کی کمی کی سب سے عام علامت کلوروسس ہے (پتے پیلے یا پیلے سفید ہو جاتے ہیں)۔ کیلشیم کی کمی کو اکثر 13-15 پونڈ شامل کرکے درست کیا جاتا ہے۔ (6 - 7 کلوگرام) کیلشیم آکسائیڈ فی بالغ درخت (اپنے مقامی لائسنس یافتہ زرعی ماہر سے مشورہ کریں)۔ میگنیشیم اور بوران بھی پھل کی مناسب نشوونما کے لیے اہم ہیں۔ میگنیشیم (Mg) کلوروفل مالیکیول کا مرکزی حصہ ہے، جبکہ بوران (B) میٹابولزم اور شکر کی نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سے معاملات میں، اگر کسان پودوں کی مدت کے وسط میں میگنیشیم یا بوران کی کمی کی تشخیص کرتے ہیں، تو وہ اکثر پودوں والی کھادیں (11-0-0-16MgO، 20.5 % B) لگاتے ہیں۔ Green Foundation Pakistan 03008836857 Mian Ahmad Ali ...... ۔۔۔۔۔زیتون کے پودوں کے لیے کھاد کا ایک نمونہ۔۔۔۔۔ اس فارمولہ سے خود کھاد بنا کر سلو فیڈنگ کریں اپ ایک lbs پاونڈ کو کلو گرام میں بدل سکتے ہیں ایک lbs یعنی پاونڈ برابر ہے ( ۰454 )کلو گرام کے برابر ہے • 0.6 to 1.5 lbs. of urea (46%) per tree – 90 to 220 lbs. per acre • 0.8 to 2.0 lbs. of ammonium nitrate (33%) per tree – 120 to 300 lbs. per acre • 1.3 to 3.2 lbs. of ammonium sulfate (21%) per tree – 190 to 475 lbs. per acre • 1.6 to 4.0 lbs. of CAN-17 (17%) per tree – 235 to 588 lbs. per acre • 1.7 to 4.2 lbs. of sodium nitrate (16%) per tree – 250 to 625 lbs. per acre • 1.7 to 4.3 lbs. of calcium nitrate per tree (15.5%) – 258 to 645 lbs. per acre • 2.0 to 5.1 lbs. of potassium nitrate per tree (13%) – 307 to 770 lbs. per acre • 2.4 to 6.0 lbs. of ammonium phosphate per tree (11%) – 363 to 909 lbs. per acre اس کا اردو ترجمہ درج زیل ہے کھاد پودے کے تنوں سے دور رکھیں گوڈی کر کے مٹی میں دبا کر پانی لگائیں محدود وقفے وقفے سے استعمال کریں مٹی پانی کا تجزیہ کروائیں استعمال سے پہلے قریبی زرعی ماہر سے مشورہ کریں پندرہ فروری سے پہلے اور تیس اگست کے بعد استعمال مت کریں زیتون کے درختوں کے لیے کھاد کی مقدار 1. یوریا (46%) فی درخت: 0.27 سے 0.68 کلوگرام فی ایکڑ: 40.8 سے 99.8 کلوگرام 2. امونیم نائٹریٹ (33%) فی درخت: 0.36 سے 0.91 کلوگرام فی ایکڑ: 53.4 سے 136.1 کلوگرام 3. امونیم سلفیٹ (21%) فی درخت: 0.59 سے 1.45 کلوگرام فی ایکڑ: 86.2 سے 215.5 کلوگرام 4. CAN-17 (17%) سے مراد "Calcium Ammonium Nitrate" ہے، جو ایک قسم کی کھاد ہے۔ یہ کھاد کیلشیم اور امونیم نائٹریٹ کا مرکب ہے فی درخت: 0.73 سے 1.81 کلوگرام فی ایکڑ: 105.2 سے 265.7 کلوگرام 5. سوڈیم نائٹریٹ (16%) فی درخت: 0.77 سے 1.90 کلوگرام فی ایکڑ: 113.4 سے 284.4 کلوگرام 6. کیلشیم نائٹریٹ (15.5%) فی درخت: 0.77 سے 1.95 کلوگرام فی ایکڑ: 116.1 سے 292.4 کلوگرام 7. پوٹاشیم نائٹریٹ (13%) فی درخت: 0.91 سے 2.31 کلوگرام فی ایکڑ: 138.3 سے 348.6 کلوگرام 8. امونیم فاسفیٹ (11%) فی درخت: 1.09 سے 2.72 کلوگرام فی ایکڑ: 164.5 سے 409.5 کلوگرام --- ہدایات: یہ مقداریں زیتون کے درختوں کی صحت اور پیداوار کے لیے اہم ہیں۔ استعمال کرنے سے پہلے، مقامی مٹی کی حالت اور درختوں کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ........ گرین فاوندیشن پاکستان ننکانہ صاحب 03008836857 Green Foundation Pakistan ۔۔۔۔ تو، زیتون کے درخت کی غذائی ضروریات کیا ہیں؟ زیتون کے درخت کو اپنی مناسب نشوونما اور نشوونما کے لیے غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے اہم غذائی اجزاء نائٹروجن (N)، فاسفورس (P) اور پوٹاشیم (K) ہیں، جنہیں میکرونیوٹرینٹس کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، آپ کو دیگر عناصر جیسے کیلشیم، میگنیشیم، آئرن اور زنک کی بھی تھوڑی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جنہیں مائیکرو نیوٹرینٹس کہا جاتا ہے۔ زیتون کی کاشت میں اس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کھاد ڈالنا ایک بنیادی عمل ہے۔ کھاد کو دو طریقوں سے لاگو کیا جا سکتا ہے: مٹی پر یا پتوں کی کھاد کے ذریعے۔ اس کے علاوہ، زیتون کے باغ کے لیے کھاد نامیاتی یا غیر نامیاتی ہو سکتی ہے۔ نامیاتی کھادیں قدرتی ہیں اور ان میں نامیاتی مادے جیسے کھاد، کمپوسٹ، گوانو وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری طرف غیر نامیاتی کھادیں مصنوعی ہوتی ہیں اور ان میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے کیمیائی عناصر ہوتے ہیں۔ فولیئر نیوٹریشن کا فائدہ یہ ہے کہ وہ غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں جو زیتون کے درخت کے مختلف پودوں کے مراحل میں عین وقت پر مداخلت کرتے ہیں۔ غذائی اجزاء کا صحیح استعمال اچھے پھول کا باعث بنتا ہے۔ ایک اچھی ترتیب اور بہت زیادہ تیل کی پیداوار۔ اس کے علاوہ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں بار کی تعداد میں بتدریج کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ درخواست کی تجاویز میں سے ایک ہے جو MORERA زیتون کے درختوں کے علاج کے لیے تجویز کرتی ہے: سیزن: کلیوں کا فرق۔ (مارچ/اپریل) BrioSint H 0.5% PerBoril 0.2% Sintex Foliar 0.3% bonActiv 0.05% مقصد: bonActiv ایک بایوسٹیمولنٹ ہے جو موسم بہار کے آغاز میں سنٹیکس فولیئر (امائنو ایسڈ پر مبنی بائیوسٹیمولینٹ) کے ساتھ مل کر لگایا جاتا ہے، پودے کے میٹابولزم کو بڑھاتا ہے، صحت مند اور مضبوط انکرن حاصل کرتا ہے۔ Briosint-H کا توازن (متحرک متوازن کھاد) اس مقصد کے لیے ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے۔ PerBoril (پیچیدہ بوران) کے ساتھ ہم بوران کی وہ مقدار فراہم کرتے ہیں جس کی زیتون کے درخت کو بعد کے پھول اور پھلوں کے سیٹ میں ضرورت ہوتی ہے۔ سیزن: پھولوں اور پھلوں کا سیٹ۔ (مئی / جون)۔ BrioSint A 0.2% Glass Mg+B 0.3% بلٹ 0.1% مقصد: BrioSint A ایک پتوں کی کھاد ہے جو فاسفورس اور پوٹاشیم سے بھرپور ہے، پھولوں اور پھلوں کے سیٹ میں ضروری عناصر۔ Glass Mg+B میگنیشیم اور بوران فراہم کرتا ہے، جو ان عناصر میں زیتون کے درخت کی ضروریات کو تسلی بخش طریقے سے پورا کرتا ہے۔ دوسری طرف، بلٹ کے ساتھ ہم دہی کے عمل کو متحرک کرتے ہیں۔ سیزن: ہڈیوں کا سخت ہونا۔ (جولائی/اگست) BrioSint A 0.5% BrioSint K ایکٹیو 0.3% مقصد: پوٹاشیم، فاسفورس کی طرح، کاربوہائیڈریٹس (شکر)، چکنائی (تیل) اور پروٹین کے میٹابولزم سے براہ راست تعلق رکھنے والا ایک میکرو عنصر ہے۔ جولائی کا مہینہ ہے جب زیتون کے درخت میں پوٹاشیم کی زیادہ سے زیادہ ضرورتیں شروع ہوتی ہیں، Briosint K ایکٹیو کے ساتھ ان ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔ Briosint A کے ساتھ ہم اس پودوں کی مدت کے لیے فاسفورس اور پوٹاشیم کا صحیح توازن فراہم کرتے ہیں۔ موسم: موٹا ہونا۔ (ستمبر/اکتوبر) Glass Mg 0.3% PerBoril 0.2% Sintex Foliar 0.3% مقصد: Sintex foliar پودے کے میٹابولزم کو متحرک کرتا ہے اور پھل کے پکنے اور فربہ کرنے کے عمل کو فروغ دیتا ہے۔ Glass Mg کے ذریعے میگنیشیم کا تعاون، دیگر چیزوں کے علاوہ، فیٹی ایسڈز کی تشکیل اور بار کی تعداد میں بتدریج کمی کا پیچھا کرتا ہے۔ PerBoril کے ساتھ ہم زیتون کے درخت کو اگلے پھول کے لیے تیار کرتے ہیں۔ موسم بہار اور موسم گرما موسم بہار اور موسم گرما سال کے وہ اوقات ہوتے ہیں جن میں زیتون کے درخت کو غذائی اجزاء کی زیادہ مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم بہار میں، زیتون کے درخت کو اپنی پودوں کی نشوونما کے لیے نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے اور گرمیوں میں، زیتون کو فربہ کرنے کے لیے پوٹاشیم ضروری ہوتا ہے۔ زیتون کے درخت کے پتوں کی کھاد کے لیے مائع کھاد ایک اچھا اختیار ہے۔ یہ کھادیں زیتون کے پتوں پر براہ راست لگائی جا سکتی ہیں، اور غذائی اجزاء کو تیزی سے جذب کرتی ہیں۔ یعنی فولیئر فرٹیلائزر ایک ایسی تکنیک ہے جو زیتون کے درخت کے پتوں کے ذریعے غذائی اجزاء کے استعمال پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ تکنیک اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب زیتون کے درخت کی جڑیں مٹی سے غذائی اجزا جذب کرنے کے قابل نہ ہوں۔ مزید برآں، پودوں کی کھاد کا فائدہ یہ ہے کہ یہ مٹی کی کھاد کے مقابلے میں تیز اور زیادہ موثر ہے۔ حل پذیر کھاد زیتون کے درخت کی مٹی کو کھاد ڈالنے کے لیے ایک اچھا اختیار ہے۔ یہ کھادیں زیتون کے درخت کی جڑوں کے لیے جذب کرنے میں آسان ہیں، اور غذائی اجزاء کی تیزی سے دستیابی فراہم کرتی ہیں۔ دوسری طرف، زمین کی صحت کو برقرار رکھنے اور اس کی ساخت کو بہتر بنانے کے لیے نامیاتی کھادوں (نامیاتی مادے) کا استعمال ضروری ہے۔ زیتون کے درخت کو کیڑوں اور بیماریوں سے بچانے کے لیے کھادوں کے علاوہ فائٹو سینیٹری علاج بھی ضروری ہے۔ تاہم، ان علاجوں کو احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے، کیونکہ جب مینوفیکچررز کی طرف سے دی گئی سفارشات پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو یہ ماحول اور انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ #olive #olivetree #olivegarden 🌿 زیتون کا درخت — برکت، تاریخ، صحت اور خوشحالی کی علامت زیتون کا درخت نہ صرف دنیا کے قدیم ترین پودوں میں سے ہے بلکہ انسان کی تہذیب، ثقافت، مذہب، خوراک اور ماحول سے اس کی وابستگی ہزاروں سال پرانی ہے۔ زیتون کی موجودگی انسانی تاریخ کی ہر بڑی تہذیب میں رہی ہے۔ یہ ایک ایسا درخت ہے جو امن، حکمت، برکت، شفا اور استقامت کی علامت بن چکا ہے۔ 📖 مذہبی کتابوں میں زیتون کا مقام 📗 قرآنِ مجید میں زیتون اللہ تعالیٰ نے زیتون کو قرآن میں متعدد بار ذکر فرمایا: سورۃ التین (آیت 1): "وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ" ترجمہ: قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی سورۃ النور (آیت 35): "يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ" ترجمہ: جلایا جاتا ہے ایک بابرکت زیتون کے درخت سے زیتون کا تیل بھی شفاء اور نور کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ✝️ بائبل میں زیتون عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں طوفان نوح کے بعد فاختہ زیتون کی شاخ لے کر آئی، جو امن اور نئی زندگی کی علامت بنی۔ یسوع مسیح (علیہ السلام) اکثر زیتون کے باغ میں دعا کرتے تھے۔ ✡️ تورات میں زیتون تورات میں زیتون کو شفا، روشنی اور معیشت کے اہم ذریعہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انبیائے کرام کی زندگی میں زیتون کے درخت اور تیل کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ زیتون صرف ایک درخت نہیں، بلکہ یہ الہامی نعمت ہے، جسے اللہ نے تمام امتوں کے لیے مفید قرار دیا۔ 🕊️ ثقافتی علامت زیتون کی شاخ امن کی عالمی علامت مانی جاتی ہے۔ یونانی تہذیب میں یہ حکمت اور طاقت کی علامت تھی۔ کئی ممالک کے قومی پرچم اور سرکاری علامتوں میں زیتون کی شاخ شامل ہے۔ 🍃 ماحولیاتی فوائد زیتون کے درخت خشک سالی برداشت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ درخت مٹی کے کٹاؤ کو روکتا ہے، زرخیزی بڑھاتا ہے، اور بنجر زمین کو قابلِ کاشت بناتا ہے۔ کم پانی اور کم دیکھ بھال کے باوجود سالوں تک پیداوار دیتے ہیں۔ زیتون لگانا ماحولیاتی تحفظ اور زمین کی بہتری کے لیے ایک مؤثر قدم ہے۔ 🧴 غذائی و طبی فوائد زیتون کا تیل دل کی بیماریوں سے بچاؤ، کولیسٹرول میں کمی، دماغی صحت اور جلدی امراض کے لیے مفید ہے۔ زیتون میں اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن ای، اومیگا 3 اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ زیتون کا تیل نبی کریم ﷺ کے مبارک اقوال کے مطابق بھی مفید ہے۔ حدیث: "زیتون کا تیل کھاؤ اور جسم پر لگاؤ، یہ مبارک درخت سے ہے" (ترمذی شریف) 💰 مالی فوائد 1. لمبی عمر کی سرمایہ کاری زیتون کے درخت سینکڑوں سال زندہ رہ سکتے ہیں اور دہائیوں تک پھل دیتے ہیں۔ 2. تیل اور مصنوعات کی اعلیٰ قیمت زیتون کا تیل (خاص طور پر Extra Virgin) عالمی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے۔ 3. کم خرچ، زیادہ پیداوار زیتون کے درخت کو پانی، کیڑے مار ادویات یا کھاد کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ 🌍 زیتون لگانے کی ترغیب زیتون کاشت کرنا محض ایک زرعی کام نہیں بلکہ: سنتِ انبیاء کی پیروی ماحولیاتی تحفظ کی خدمت معاشی خوشحالی کا ذریعہ ثقافتی ورثے کی حفاظت آنے والی نسلوں کے لیے سرمایہ ہے 📢 اختتامی پیغام: زیتون لگائیں، برکت کمائیں، تاریخ سے جڑیں آج جب دنیا ماحولیاتی بحران، مہنگائی اور خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہے، زیتون ایک ایسا درخت ہے جو روحانی، معاشی، اور ماحولیاتی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ زیتون لگانا ماضی سے جڑنے، حال کو سنوارنے، اور مستقبل کو محفوظ بنانے کا عمل ہے۔ 🌱 رابطہ برائے رہنمائی میاں احمد علی گرین فاؤنڈیشن پاکستان — ننکانہ صاحب 📱 WhatsApp: 03008836857 🙏 اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں، اور زیتون کی قومی مہم میں شامل ہوں۔
Where the ad sends people
facebook.com
Green Foundation Pakistan
Like page: facebook.com(opens in a new tab)






